آنتوں کی حرکت درست کرنا. قبض سے نجات کے محفوظ طریقے

 




قبض ایک عام معدہ و آنت کا مسئلہ ہے جس میں آنتوں کی حرکت سست ہوجاتی ہے یا بار بار رفع حاجت میں مشکل پیش آتی ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ علامت ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر ظاہر ہوتی ہے۔ صحت مند زندگی کے لیے آنتوں کا درست طریقے سے کام کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہ جسم سے فاضل مادوں کے اخراج کا ذمہ دار ہے۔

قبض کی وجوہات
قبض کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں، جن میں سے چند اہم یہ ہیں

غذائی عوامل میں ریشے دار غذاؤں یعنی فائبر کا کم استعمال، پانی کی ناکافی مقدار، زیادہ چکنائی والی یا پروسیسڈ غذائیں، اور کیفین والے مشروبات کا زیادہ استعمال شامل ہیں۔

طرز زندگی میں جسمانی سرگرمی کی کمی، رفع حاجت کی فطری خواہش کو نظر انداز کرنا، روزمرہ کے معمولات میں تبدیلی، اور سفر یا کام کے دباؤ کے باعث معمولات میں تبدیلی قبض کا سبب بنتی ہے۔

ادویات کے مضر اثرات میں درد کش ادویات خصوصاً اوپیئڈز، اینٹی ڈپریسنٹس، آئرن سپلیمنٹس، اور بلڈ پریشر کی بعض ادویات شامل ہیں۔

طبی حالات میں تھائرائیڈ کی خرابی یعنی ہائپوٹھائیرائیڈزم، ذیابیطس، آنتوں کی بیماریاں جیسے IBS، اور اعصابی نظام کی خرابیاں شامل ہیں۔

نفسیاتی عوامل میں ذہنی دباؤ، ڈپریشن، اور بے چینی شامل ہیں۔

قبض سے نجات کے محفوظ طریقے

غذائی تبدیلیاں
ریشے دار غذاؤں یعنی فائبر کا زیادہ استعمال کریں۔ حل پذیر ریشہ پانی میں حل ہو جاتا ہے اور جیل جیسی ساخت بناتا ہے، جس کے ذرائع جئی، جو، سیب، ترش پھل، گاجر، اور السی کے بیج ہیں۔ ناقابل حل ریشہ پانی میں حل نہیں ہوتا اور فضلے میں بڑھوتری کرتا ہے، جس کے ذرائع گندم کا چھلکا، سبزیاں، پھلیاں، اور مکمل اناج ہیں۔ پانی کا مناسب استعمال کریں، دن میں کم از کم آٹھ سے دس گلاس پانی پئیں۔ صبح نہار منہ ایک یا دو گلاس نیم گرم پانی پینا مفید ہے۔ پانی کے علاوہ تازہ پھلوں کے جوس، سوپ، اور ہربل چائے بھی مفید ہیں۔ فائدہ مند غذاؤں میں آلو بخارا، خوبانی، انجیر خشک یا تازہ، پپیتا، امرود، کیوی، انگور، سبز پتوں والی سبزیاں، دالیں اور پھلیاں، السی کے بیج، چیا سیڈز، اور تخ ملنگا شامل ہیں۔

طرز زندگی میں تبدیلیاں
باقاعدہ ورزش کریں، روزانہ کم از کم تیس منٹ کی معتدل ورزش کریں جیسے تیز چہل قدمی، جاگنگ، یا تیراکی۔ یوگا کے خاص آسن جیسے پونمکت آسن اور پونمکتاسن بھی مفید ہیں۔ آنتوں کی مالش کرنے والی ورزشیں بھی کریں۔ رفع حاجت کے معمولات کو بہتر بنائیں، صبح اٹھنے کے بعد یا کھانے کے بعد باقاعدہ وقت مقرر کریں، فطری خواہش کو نظر انداز نہ کریں، اور ٹوائلٹ سیٹ پر درست پوزیشن اپنائیں جیسے پاؤں کے نیچے چھوٹا اسٹول رکھ کر گھٹنے پیٹ کے قریب لانا۔ تناؤ کا انتظام کریں، مراقبہ اور گہری سانس لینے کی ورزشیں کریں، مناسب نیند لیں، اور تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔

قدرتی علاج اور گھریلو ٹوٹکے
ہربل علاج میں ایلوویرا جیل صبح نہار منہ ایک چمچ، زیتون کا تیل ایک چمچ صبح خالی پیٹ، شہد اور نیم گرم پانی صبح نہار منہ، اور سونف کا قہوہ کھانے کے بعد استعمال کریں۔ گرم پانی سے علاج میں پیٹ پر گرم پانی کی بوتل سے سکیائی کریں یا گرم پانی سے نہائیں۔

ادویات طبی مشورے سے استعمال کریں
اوٹی سی یعنی Over-the-counter ادویات میں بلک فارمنگ ایجنٹس جیسے پسیلیم یعنی Metamucil اور میتھائل سیلولوز، اسمزیٹک لیکسیٹیوز جیسے میگنیشیم ہائیڈرو آکسائیڈ یعنی مِلک آف میگنیشیا اور لاکٹولوز، اسٹول سافٹنرز جیسے ڈاکیوسیٹ سوڈیم، اور محرک لیکسیٹیوز جیسے بزاکوڈیل اور سینا شامل ہیں۔ انتباہ یہ ہے کہ مسلسل ادویات کے استعمال سے گریز کریں، کیونکہ محرک لیکسیٹیوز طویل مدتی استعمال کے لیے محفوظ نہیں ہیں۔

بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے خاص احتیاطیں

بچوں میں قبض کے لیے پانی کا زیادہ استعمال کریں، پھلوں کے جوس جیسے سیب اور ناشپاتی دیں، تربوز، کیلا، اور پپیتا دیں، دلیہ اور اناج دیں، اور پیٹ کی ہلکی مالش کریں۔

حمل کے دوران قبض کے لیے پانی کا زیادہ استعمال کریں، چھوٹے چھوٹے وقفے سے کھائیں، ہلکی پھلکی ورزش ڈاکٹر کے مشورے سے کریں، آئرن سپلیمنٹس تبدیل کرنے کا مشورہ لیں، اور قبض کی ادویات ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ہرگز استعمال نہ کریں۔

طویل المدت روک تھام کے طریقے

روزمرہ کی عادات میں ہر روز ایک ہی وقت پر رفع حاجت کی عادت ڈالیں، کھانے کو اچھی طرح چبائیں، فاسٹ فوڈ اور پروسیسڈ غذاؤں سے پرہیز کریں، اور کیفین اور الکحل کا محدود استعمال کریں۔

غذائی منصوبہ بندی میں متوازن غذا کا استعمال کریں، ناشتے میں پھل اور اناج شامل کریں، اور رات کا کھانا سونے سے کم از کم دو گھنٹے پہلے کھا لیں۔

باقاعدہ طبی چیک اپ کروائیں، سالانہ صحت کا معائنہ کروائیں، اور اگر مسائل برقرار رہیں تو گیسٹرو اینٹرولوجسٹ سے مشورہ لیں۔

قبض سے نجات حاصل کرنا اور آنتوں کی حرکت درست کرنا کوئی مشکل عمل نہیں ہے۔ صحت مند غذائی عادات، فعال طرز زندگی، اور تناؤ سے پاک ماحول میں رہنے سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یاد رکھیں کہ جلد بازی میں ادویات کا استعمال وقتی آرام تو دے سکتا ہے، لیکن مستقل حل صرف قدرتی طریقوں اور صحت مند عادات اپنانے سے ہی ممکن ہے۔ اگر مسائل برقرار رہیں تو کسی بھی قسم کی خود علاجی سے گریز کرتے ہوئے ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ آخری مشورہ یہ ہے کہ اپنے جسم کی سنیں، اس کی فطری صلاحیتوں پر بھروسہ کریں، اور ایسی زندگی گزارنے کی کوشش کریں جو قدرتی اصولوں کے مطابق ہو۔ صحت مند آنتیں نہ صرف ہاضمے کے لیے ضروری ہیں، بلکہ پورے جسم کی صحت اور تندرستی کی ضامن بھی ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ہومیوپیتھی اور معدے کے مسائل

خوش آمدید

حسد، جلن ، کینہ ، غصہ اور دیگر جذبات کی ایک اہم دوائی