میسوفونیا
ناولوں اور کہانیوں میں تو اکثر "خاموشی کی آواز" کا ذکر ملتا ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی کے لیے یہی خاموشی ایک بھیانک خواب بن سکتی ہے؟ تصور کیجیے، آپ ایک پرسکون کمرے میں بیٹھے ہیں اور اچانک کسی کے چپس کھانے کی آواز، قلم کی ٹک ٹک، یا محض سانس لینے کی آواز آپ کے اندر غصے کا ایک ایسا طوفان برپا کر دے کہ آپ کا جی چاہے وہاں سے بھاگ جائیں یا چیخنے لگیں۔ اگر ایسا ہے، تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ آپ "میسوفونیا" ( Misophonia ) کا شکار ہیں—ایک ایسی پراسرار طبی حالت جسے 2026 کی جدید تحقیق نے محض ایک "عادت" کے بجائے ایک پیچیدہ اعصابی خلل قرار دے دیا ہے۔ میسوفونیا: جب کانوں کا رابطہ جذبات سے بگڑ جائے اردو میں ہم اسے "نفرتِ صوت" یا آواز سے بیزاری کہہ سکتے ہیں۔ لیکن یہ عام سی بیزاری نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جہاں مخصوص "نرم" آوازیں ( Soft Sounds ) انسانی دماغ میں "بچو یا لڑو" ( Fight or Flight ) والے ہارمونز کو بیدار کر دیتی ہیں۔ دماغ کے اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے؟ 2026 کی تازہ ترین نیورو سائنس ریسرچ کے مطابق، میسوفونیا کے شکار افر...