اشاعتیں

تازہ ترین

میسوفونیا

تصویر
  ناولوں اور کہانیوں میں تو اکثر "خاموشی کی آواز" کا ذکر ملتا ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی کے لیے یہی خاموشی ایک بھیانک خواب بن سکتی ہے؟ تصور کیجیے، آپ ایک پرسکون کمرے میں بیٹھے ہیں اور اچانک کسی کے چپس کھانے کی آواز، قلم کی ٹک ٹک، یا محض سانس لینے کی آواز آپ کے اندر غصے کا ایک ایسا طوفان برپا کر دے کہ آپ کا جی چاہے وہاں سے بھاگ جائیں یا چیخنے لگیں۔ اگر ایسا ہے، تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ آپ  "میسوفونیا" ( Misophonia )  کا شکار ہیں—ایک ایسی پراسرار طبی حالت جسے 2026 کی جدید تحقیق نے محض ایک "عادت" کے بجائے ایک پیچیدہ اعصابی خلل قرار دے دیا ہے۔ میسوفونیا: جب کانوں کا رابطہ جذبات سے بگڑ جائے اردو میں ہم اسے  "نفرتِ صوت"  یا آواز سے بیزاری کہہ سکتے ہیں۔ لیکن یہ عام سی بیزاری نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جہاں مخصوص "نرم" آوازیں ( Soft Sounds ) انسانی دماغ میں "بچو یا لڑو" ( Fight or Flight ) والے ہارمونز کو بیدار کر دیتی ہیں۔ دماغ کے اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے؟ 2026 کی تازہ ترین نیورو سائنس ریسرچ کے مطابق، میسوفونیا کے شکار افر...

اعصابی نظام کی ابتری

تصویر
عصری طرزِ حیات اور حسی مغلوبیت کا فلسفہ انسانی تاریخ میں کبھی بھی انسانی حسیات کو اس قدر ہمہ گیر حملے کا سامنا نہیں رہا جتنا کہ آج کی تیسری دہائی کے انسان کو ہے۔ حسی مغلوبیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہمارے پانچوں حسیاتی راستے یعنی بصارت، سماعت، شامہ، ذائقہ اور لمس اتنی زیادہ معلومات دماغ کی طرف بھیجتے ہیں کہ دماغ کا پروسیسنگ نظام اسے ترتیب دینے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ قدیم دور میں انسانی بقا کا دارومدار حسیات کی تیزی پر تھا، مگر وہ تیزی کسی خطرے کے وقت عارضی طور پر بیدار ہوتی تھی۔ آج کا انسان ایک ایسی مصنوعی دنیا میں رہ رہا ہے جہاں اشتہارات کی چمک، ٹریفک کا شور، اسکرین کی نیلی روشنی اور معلومات کا لامتناہی بہاؤ ہر لمحہ ہمارے اعصاب کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ یہ کیفیت اعصابی نظام کو ایک ایسی مستقل جنگی حالت میں مبتلا کر دیتی ہے جہاں سکون کا تصور محال ہو جاتا ہے۔ اعصابی گنجائش کی نفسیاتی اور حیاتیاتی سرحدیں ہر انسان کے اعصابی نظام کی ایک خاص گنجائش ( Window of Tolerance ) ہوتی ہے۔ جب تک بیرونی محرکات اس گنجائش کے اندر رہتے ہیں، انسان منطقی فیصلے کرنے اور جذباتی توازن برقرار رکھنے کے ...

آنتوں کی حرکت درست کرنا. قبض سے نجات کے محفوظ طریقے

تصویر
  قبض ایک عام معدہ و آنت کا مسئلہ ہے جس میں آنتوں کی حرکت سست ہوجاتی ہے یا بار بار رفع حاجت میں مشکل پیش آتی ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ علامت ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر ظاہر ہوتی ہے۔ صحت مند زندگی کے لیے آنتوں کا درست طریقے سے کام کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہ جسم سے فاضل مادوں کے اخراج کا ذمہ دار ہے۔ قبض کی وجوہات قبض کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں، جن میں سے چند اہم یہ ہیں غذائی عوامل میں ریشے دار غذاؤں یعنی فائبر کا کم استعمال، پانی کی ناکافی مقدار، زیادہ چکنائی والی یا پروسیسڈ غذائیں، اور کیفین والے مشروبات کا زیادہ استعمال شامل ہیں۔ طرز زندگی میں جسمانی سرگرمی کی کمی، رفع حاجت کی فطری خواہش کو نظر انداز کرنا، روزمرہ کے معمولات میں تبدیلی، اور سفر یا کام کے دباؤ کے باعث معمولات میں تبدیلی قبض کا سبب بنتی ہے۔ ادویات کے مضر اثرات میں درد کش ادویات خصوصاً اوپیئڈز، اینٹی ڈپریسنٹس، آئرن سپلیمنٹس، اور بلڈ پریشر کی بعض ادویات شامل ہیں۔ طبی حالات میں تھائرائیڈ کی خرابی یعنی ہائپوٹھائیرائیڈزم، ذیابیطس، آنتوں کی بیماریاں جیسے IBS، اور اعصابی نظام کی خرابیاں شامل ہیں۔ نفسیاتی عوامل میں...

مراقبہ: جدید دور کی ضرورت اور اس کے حیرت انگیز فوائد

تصویر
  مراقبہ: جدید دور کی ضرورت اور اس کے حیرت انگیز فوائد آج کے تیز رفتار اور مشینی دور میں، جہاں انسان مادی ترقی کی دوڑ میں شامل ہے، وہیں وہ اندرونی بے چینی، ذہنی تناؤ اور نفسیاتی مسائل کا شکار بھی ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں "مراقبہ" ایک ایسی قدیم مگر جدید ترین دوا کے طور پر سامنے آیا ہے جو نہ صرف ذہن کو سکون بخشتا ہے بلکہ انسانی جسم اور روح کے درمیان توازن بھی پیدا کرتا ہے۔ مراقبہ کیا ہے؟ مراقبہ سے مراد اپنے خیالات کو ایک نقطے پر مرکوز کرنا اور شعور کی اس سطح تک پہنچنا ہے جہاں انسان بیرونی خلفشار سے کٹ کر اپنے اندرونی وجود سے جڑ جائے۔ یہ صرف آنکھیں بند کر کے بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ذہنی تربیت ہے جس کے ذریعے ہم اپنے منتشر خیالات کو لگام دیتے ہیں۔   مراقبہ کی سائنسی حقیقت اور جدید تحقیقات جدید سائنس، خاص طور پر نیورو سائنس ( Neuroscience ) ، اب مراقبہ کے فوائد کی تصدیق کر رہی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی اور دیگر نامور اداروں کی تحقیقات کے مطابق: دماغی ساخت میں تبدیلی: باقاعدگی سے مراقبہ کرنے والے افراد کے دماغ میں 'گرے میٹر' ( Gray Matter ) کی...