اشاعتیں

تازہ ترین

ہیموگلوبن کی جنگ: خوراک، ادویات اور ہومیوپیتھی کے ساتھ آئرن ڈیفیشنسی کو مکمل طور پر شکست دینے کا منصوبہ

تصویر
  آئرن کی کمی دنیا بھر میں پائی جانے والی غذائی قلت کی سب سے عام قسم ہے، جس کے نتیجے میں خون کی کمی (انیمیا) جیسا سنگین مسئلہ جنم لے سکتا ہے۔ انسانی جسم میں آئرن کا بنیادی کام خون کے سرخ ذرات (ہیموگلوبن) کی تشکیل میں شامل ہونا ہے، جو پھیپھڑوں سے آکسیجن کو جسم کے تمام ٹشوز تک پہنچانے کا کام کرتے ہیں ۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً 40 فیصد بچے (6 سے 59 ماہ کی عمر کے)، 37 فیصد حاملہ خواتین اور 30 فیصد تولیدی عمر کی خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں، جس کی سب سے بڑی وجہ آئرن کی کمی ہے ۔ یہ مسئلہ نہ صرف عام کمزوری اور تھکاوٹ کا باعث بنتا ہے بلکہ اگر اسے بروقت نہ سمجھا جائے تو یہ علمی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، کام کرنے کی صلاحیت کو کم کر سکتا ہے اور حاملہ خواتین میں پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھا سکتا ہے ۔ اس مضمون میں ہم آئرن کی کمی کو پورا کرنے کے لیے خوراک، جدید ادویات، طرز زندگی میں تبدیلی اور ہومیوپیتھک ادویات سمیت تمام مستند ذرائع پر مفصل اور پیشہ ورانہ روشنی ڈالیں گے۔ آئرن کی کمی: ایک جائزہ آئرن کی کمی تب پیدا ہوتی ہے جب جسم میں آئرن...

دائمی تھکاوٹ کا خاتمہ

تصویر
اکثر لوگ تھکاوٹ کو صرف نیند کی کمی یا کام کی زیادتی سمجھتے ہیں، لیکن طبی لحاظ سے 'دائمی تھکاوٹ ' (Chronic Fatigue) ایک پیچیدہ کیفیت ہے جو محض آرام کرنے سے ختم نہیں ہوتی۔ اگر آپ مسلسل چھ ماہ سے تھکن محسوس کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ یادداشت کی کمزوری یا پٹھوں میں درد بھی ہے، تو یہ صرف عام تھکن نہیں بلکہ ایک ایسا حیاتیاتی مسئلہ ہے جس کا حل آپ کے طرزِ زندگی اور خلیاتی نظام میں چھپا ہے۔ ذیل میں اس تھکاوٹ کو شکست دینے کے لیے سائنسی بنیادوں پر مبنی جدید طریقے درج ہیں۔ ۔ مائٹوکونڈریا: جسم کے خلیاتی پاور ہاؤس کی اصلاح سائنسی نقطہ نظر سے تھکاوٹ کا آغاز ہمارے خلیوں کے اندر موجود 'مائٹوکونڈریا ' (Mitochondria) سے ہوتا ہے۔ یہ خلیے کے وہ حصے ہیں جو غذا اور آکسیجن کو توانائی (ATP) میں تبدیل کرتے ہیں۔ جب یہ کمزور پڑ جائیں تو جسمانی بیٹری چارج نہیں ہو پاتی۔ 1 ۔ مائٹوکونڈریا کی فعالیت بڑھانے کے لیے 'کواینزائم Q10' اور 'ایل-کارنیٹین' سے بھرپور غذاؤں کا استعمال ضروری ہے جو توانائی کی منتقلی میں مدد دیتے ہیں۔ 2 ۔ وقفے وقفے سے روزہ رکھنا (Intermittent Fasting) جسم م...

میسوفونیا

تصویر
  ناولوں اور کہانیوں میں تو اکثر "خاموشی کی آواز" کا ذکر ملتا ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی کے لیے یہی خاموشی ایک بھیانک خواب بن سکتی ہے؟ تصور کیجیے، آپ ایک پرسکون کمرے میں بیٹھے ہیں اور اچانک کسی کے چپس کھانے کی آواز، قلم کی ٹک ٹک، یا محض سانس لینے کی آواز آپ کے اندر غصے کا ایک ایسا طوفان برپا کر دے کہ آپ کا جی چاہے وہاں سے بھاگ جائیں یا چیخنے لگیں۔ اگر ایسا ہے، تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ آپ  "میسوفونیا" ( Misophonia )  کا شکار ہیں—ایک ایسی پراسرار طبی حالت جسے 2026 کی جدید تحقیق نے محض ایک "عادت" کے بجائے ایک پیچیدہ اعصابی خلل قرار دے دیا ہے۔ میسوفونیا: جب کانوں کا رابطہ جذبات سے بگڑ جائے اردو میں ہم اسے  "نفرتِ صوت"  یا آواز سے بیزاری کہہ سکتے ہیں۔ لیکن یہ عام سی بیزاری نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جہاں مخصوص "نرم" آوازیں ( Soft Sounds ) انسانی دماغ میں "بچو یا لڑو" ( Fight or Flight ) والے ہارمونز کو بیدار کر دیتی ہیں۔ دماغ کے اندر کیا کھچڑی پک رہی ہے؟ 2026 کی تازہ ترین نیورو سائنس ریسرچ کے مطابق، میسوفونیا کے شکار افر...

اعصابی نظام کی ابتری

تصویر
عصری طرزِ حیات اور حسی مغلوبیت کا فلسفہ انسانی تاریخ میں کبھی بھی انسانی حسیات کو اس قدر ہمہ گیر حملے کا سامنا نہیں رہا جتنا کہ آج کی تیسری دہائی کے انسان کو ہے۔ حسی مغلوبیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہمارے پانچوں حسیاتی راستے یعنی بصارت، سماعت، شامہ، ذائقہ اور لمس اتنی زیادہ معلومات دماغ کی طرف بھیجتے ہیں کہ دماغ کا پروسیسنگ نظام اسے ترتیب دینے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ قدیم دور میں انسانی بقا کا دارومدار حسیات کی تیزی پر تھا، مگر وہ تیزی کسی خطرے کے وقت عارضی طور پر بیدار ہوتی تھی۔ آج کا انسان ایک ایسی مصنوعی دنیا میں رہ رہا ہے جہاں اشتہارات کی چمک، ٹریفک کا شور، اسکرین کی نیلی روشنی اور معلومات کا لامتناہی بہاؤ ہر لمحہ ہمارے اعصاب کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ یہ کیفیت اعصابی نظام کو ایک ایسی مستقل جنگی حالت میں مبتلا کر دیتی ہے جہاں سکون کا تصور محال ہو جاتا ہے۔ اعصابی گنجائش کی نفسیاتی اور حیاتیاتی سرحدیں ہر انسان کے اعصابی نظام کی ایک خاص گنجائش ( Window of Tolerance ) ہوتی ہے۔ جب تک بیرونی محرکات اس گنجائش کے اندر رہتے ہیں، انسان منطقی فیصلے کرنے اور جذباتی توازن برقرار رکھنے کے ...

آنتوں کی حرکت درست کرنا. قبض سے نجات کے محفوظ طریقے

تصویر
  قبض ایک عام معدہ و آنت کا مسئلہ ہے جس میں آنتوں کی حرکت سست ہوجاتی ہے یا بار بار رفع حاجت میں مشکل پیش آتی ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ علامت ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر ظاہر ہوتی ہے۔ صحت مند زندگی کے لیے آنتوں کا درست طریقے سے کام کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہ جسم سے فاضل مادوں کے اخراج کا ذمہ دار ہے۔ قبض کی وجوہات قبض کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں، جن میں سے چند اہم یہ ہیں غذائی عوامل میں ریشے دار غذاؤں یعنی فائبر کا کم استعمال، پانی کی ناکافی مقدار، زیادہ چکنائی والی یا پروسیسڈ غذائیں، اور کیفین والے مشروبات کا زیادہ استعمال شامل ہیں۔ طرز زندگی میں جسمانی سرگرمی کی کمی، رفع حاجت کی فطری خواہش کو نظر انداز کرنا، روزمرہ کے معمولات میں تبدیلی، اور سفر یا کام کے دباؤ کے باعث معمولات میں تبدیلی قبض کا سبب بنتی ہے۔ ادویات کے مضر اثرات میں درد کش ادویات خصوصاً اوپیئڈز، اینٹی ڈپریسنٹس، آئرن سپلیمنٹس، اور بلڈ پریشر کی بعض ادویات شامل ہیں۔ طبی حالات میں تھائرائیڈ کی خرابی یعنی ہائپوٹھائیرائیڈزم، ذیابیطس، آنتوں کی بیماریاں جیسے IBS، اور اعصابی نظام کی خرابیاں شامل ہیں۔ نفسیاتی عوامل میں...