اشاعتیں

تازہ ترین

آنتوں کی حرکت درست کرنا. قبض سے نجات کے محفوظ طریقے

تصویر
  قبض ایک عام معدہ و آنت کا مسئلہ ہے جس میں آنتوں کی حرکت سست ہوجاتی ہے یا بار بار رفع حاجت میں مشکل پیش آتی ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ علامت ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر ظاہر ہوتی ہے۔ صحت مند زندگی کے لیے آنتوں کا درست طریقے سے کام کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہ جسم سے فاضل مادوں کے اخراج کا ذمہ دار ہے۔ قبض کی وجوہات قبض کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں، جن میں سے چند اہم یہ ہیں غذائی عوامل میں ریشے دار غذاؤں یعنی فائبر کا کم استعمال، پانی کی ناکافی مقدار، زیادہ چکنائی والی یا پروسیسڈ غذائیں، اور کیفین والے مشروبات کا زیادہ استعمال شامل ہیں۔ طرز زندگی میں جسمانی سرگرمی کی کمی، رفع حاجت کی فطری خواہش کو نظر انداز کرنا، روزمرہ کے معمولات میں تبدیلی، اور سفر یا کام کے دباؤ کے باعث معمولات میں تبدیلی قبض کا سبب بنتی ہے۔ ادویات کے مضر اثرات میں درد کش ادویات خصوصاً اوپیئڈز، اینٹی ڈپریسنٹس، آئرن سپلیمنٹس، اور بلڈ پریشر کی بعض ادویات شامل ہیں۔ طبی حالات میں تھائرائیڈ کی خرابی یعنی ہائپوٹھائیرائیڈزم، ذیابیطس، آنتوں کی بیماریاں جیسے IBS، اور اعصابی نظام کی خرابیاں شامل ہیں۔ نفسیاتی عوامل میں...

مراقبہ: جدید دور کی ضرورت اور اس کے حیرت انگیز فوائد

تصویر
  مراقبہ: جدید دور کی ضرورت اور اس کے حیرت انگیز فوائد آج کے تیز رفتار اور مشینی دور میں، جہاں انسان مادی ترقی کی دوڑ میں شامل ہے، وہیں وہ اندرونی بے چینی، ذہنی تناؤ اور نفسیاتی مسائل کا شکار بھی ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں "مراقبہ" ایک ایسی قدیم مگر جدید ترین دوا کے طور پر سامنے آیا ہے جو نہ صرف ذہن کو سکون بخشتا ہے بلکہ انسانی جسم اور روح کے درمیان توازن بھی پیدا کرتا ہے۔ مراقبہ کیا ہے؟ مراقبہ سے مراد اپنے خیالات کو ایک نقطے پر مرکوز کرنا اور شعور کی اس سطح تک پہنچنا ہے جہاں انسان بیرونی خلفشار سے کٹ کر اپنے اندرونی وجود سے جڑ جائے۔ یہ صرف آنکھیں بند کر کے بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ذہنی تربیت ہے جس کے ذریعے ہم اپنے منتشر خیالات کو لگام دیتے ہیں۔   مراقبہ کی سائنسی حقیقت اور جدید تحقیقات جدید سائنس، خاص طور پر نیورو سائنس ( Neuroscience ) ، اب مراقبہ کے فوائد کی تصدیق کر رہی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی اور دیگر نامور اداروں کی تحقیقات کے مطابق: دماغی ساخت میں تبدیلی: باقاعدگی سے مراقبہ کرنے والے افراد کے دماغ میں 'گرے میٹر' ( Gray Matter ) کی...

اومیگا تھری فیٹی ایسڈز

تصویر
    اومیگا تھری فیٹی ایسڈز: صحت کے خزانے کی مکمل کہانی — فوائد، ذرائع، کمی کی علامات اور نئی تحقیق 1. تعارف: کیا ہیں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز؟ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز  ایک قسم کے غیر سیر شدہ (unsaturated) چکنے تیزاب ہیں جو ہمارے جسم کے لیے نہایت ضروری ہیں، مگر افسوس کہ ہمارا جسم انہیں خود نہیں بنا سکتا۔ اس لیے انہیں "ضروری فیٹی ایسڈز" کہا جاتا ہے، یعنی ہمیں انہیں اپنی روزمرہ غذا سے حاصل کرنا ہوتا ہے۔ یہ ہمارے جسم کے ہر خلیے کی صحت، دماغی افعال، دل کی دھڑکن اور سوزش کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں تیزی سے تبدیل ہوتی غذائی عادات—جن میں پروسیسڈ فوڈز، تیل اور ریفائن کاربوہائیڈریٹس کی کثرت ہے—اور قدرتی، غذائیت سے بھرپور خوراک کا کم ہوتا استعمال، اومیگا تھری کی عالمی سطح پر کمی کا ایک اہم سبب بن چکا ہے۔ اس مضمون کے ذریعے ہم اومیگا تھری کی اقسام، ان کے حیرت انگیز سائنسی طور پر ثابت شدہ فوائد، حصول کے قدرتی ذرائع، کمی کی پہچان، سپلیمنٹس کے بارے میں معلومات، اور جدید تحقیق کے تنازعات و رجحانات پر مکمل روشنی ڈالیں گے۔ 2. اقسام اور بنیادی کیمیا: ای...