ہیموگلوبن کی جنگ: خوراک، ادویات اور ہومیوپیتھی کے ساتھ آئرن ڈیفیشنسی کو مکمل طور پر شکست دینے کا منصوبہ
آئرن
کی کمی دنیا بھر میں پائی جانے والی غذائی قلت کی سب سے عام قسم ہے، جس کے نتیجے
میں خون کی کمی (انیمیا) جیسا سنگین مسئلہ جنم لے سکتا ہے۔ انسانی جسم میں آئرن کا
بنیادی کام خون کے سرخ ذرات (ہیموگلوبن) کی تشکیل میں شامل ہونا ہے، جو پھیپھڑوں
سے آکسیجن کو جسم کے تمام ٹشوز تک پہنچانے کا کام کرتے ہیں ۔ عالمی ادارہ صحت
(ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً 40 فیصد بچے (6 سے 59 ماہ کی عمر
کے)، 37 فیصد حاملہ خواتین اور 30 فیصد تولیدی عمر کی خواتین خون کی کمی کا شکار
ہیں، جس کی سب سے بڑی وجہ آئرن کی کمی ہے ۔ یہ مسئلہ نہ صرف عام کمزوری اور
تھکاوٹ کا باعث بنتا ہے بلکہ اگر اسے بروقت نہ سمجھا جائے تو یہ علمی نشوونما پر
منفی اثر ڈال سکتا ہے، کام کرنے کی صلاحیت کو کم کر سکتا ہے اور حاملہ خواتین میں
پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھا سکتا ہے ۔ اس مضمون میں ہم آئرن کی کمی کو پورا کرنے
کے لیے خوراک، جدید ادویات، طرز زندگی میں تبدیلی اور ہومیوپیتھک ادویات سمیت تمام
مستند ذرائع پر مفصل اور پیشہ ورانہ روشنی ڈالیں گے۔
آئرن کی کمی: ایک جائزہ
آئرن
کی کمی تب پیدا ہوتی ہے جب جسم میں آئرن کی مقدار اس کی ضرورت سے کم ہو جائے۔ یہ
کمی عموماً تین بڑی وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے: پہلی، جسم سے خون کا اخراج (جیسے
حیض، بچے کی پیدائش یا معدے کے کسی زخم سے نکلنے والا خون)؛ دوسری، خوراک میں آئرن
کی مناسب مقدار کا نہ ہونا؛ اور تیسری، آنتوں کی بیماریوں (جیسے سیلیک بیماری) کی
وجہ سے آئرن کے جذب ہونے میں رکاوٹ ۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ خون کی کمی کے
94 فیصد کیسز میں خون کا مسلسل اخراج بنیادی وجہ ہوتا ہے ۔
اس
کی علامات میں انتہائی تھکاوٹ، کمزوری، جلد کا پیلا پن، سانس پھولنا، چکر آنا،
ہاتھ پاؤں کا ٹھنڈا رہنا، بالوں کا گرنا اور ناخنوں کا چمچ نما ہو جانا
(کوئلونیشیا) شامل ہیں ۔ تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ میں ہیموگلوبن کی سطح،
سیرم فیریٹین (جسم میں آئرن کے ذخیرے کی پیمائش) اور ٹرانسفرین سیچوریشن کو چیک
کیا جاتا ہے۔ بالغ افراد میں سوزش (انفلیمیشن) نہ ہونے کی صورت میں فیریٹین لیول
45 این جی/ایم ایل سے کم ہونا آئرن کی کمی کی علامت ہے ۔
غذائی ذرائع: آئرن سے بھرپور خوراک
آئرن
کی کمی کو پورا کرنے کے لیے خوراک میں تبدیلی پہلا اور بنیادی قدم ہے۔ غذائی آئرن
دو اقسام کا ہوتا ہے: ہیم آئرن اور نان ہیم آئرن۔
۱۔ ہیم آئرن کے ذرائع: یہ آئرن جانوروں سے حاصل ہونے والی خوراک میں پایا جاتا ہے اور
جسم میں اس کے جذب ہونے کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے (تقریباً 15-35 فیصد)۔ اس کے
بہترین ذرائع میں سرخ گوشت (خاص طور پر جگر اور گردے)، مچھلی اور مرغی شامل ہیں ۔
۲۔ نان ہیم آئرن کے ذرائع
یہ آئرن پودوں سے حاصل ہونے والی خوراک اور آئرن سپلیمنٹس میں
پایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ ہماری خوراک کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ بنتا ہے، لیکن اس کا
جذب بہت کم (20 فیصد سے بھی کم) ہوتا ہے ۔ اس کے اہم ذرائع درج ذیل ہیں:
پھلیاں اور دالیں
ماش، مسور، چنا اور لوبیا وغیرہ۔
سبز پتوں والی سبزیاں
پالک، ساگ، میتھی اور بروکلی۔
خشک میوہ جات
کشمش، خوبانی اور اخروٹ۔
بیج
کدو کے بیج اور تل۔
فورٹیفائیڈ غذائیں
وہ اناج اور سیریلز جن میں آئرن
شامل کیا گیا ہو۔
جذب کرنے کی صلاحیت بڑھانے والے عوامل
نان ہیم آئرن کے جذب کو نمایاں طور پر بڑھانے کے لیے وٹامن سی
انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ لہٰذا، آئرن والی غذاؤں کے ساتھ لیموں،
سنترہ، امرود، ٹماٹر اور شملہ مرچ وغیرہ کا استعمال یقینی بنانا چاہیے۔ اسی طرح،
گوشت میں موجود پروٹین بھی نان ہیم آئرن کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔
جذب میں رکاوٹ بننے والے عوامل
بعض غذائی اجزاء آئرن کے جذب کو سست کر دیتے ہیں۔ ان میں چائے
اور کافی میں موجود ٹیننز، اناج میں موجود فائیٹیٹس (خاص طور پر چوکر والی غذائیں،
جئی، سویا بین)، کیلشیم (دودھ اور دودھ کی مصنوعات) اور کوکو شامل ہیں ۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ آئرن سے بھرپور غذا یا سپلیمنٹ لیتے وقت ان چیزوں کے
استعمال سے کم از کم ایک گھنٹہ کا وقفہ رکھنا چاہیے۔
ادویاتی علاج: زبانی اور انجیکشن کے ذرائع
جب
خوراک سے آئرن کی کمی پوری نہ ہو سکے یا کمی بہت زیادہ ہو، تو ادویات کا استعمال
ناگزیر ہو جاتا ہے۔
۱۔ زبانی آئرن سپلیمنٹس
زیادہ تر مریضوں کے لیے زبانی آئرن سپلیمنٹس کو پہلی ترجیح اور
سنہری معیار (گولڈ سٹینڈرڈ) قرار دیا جاتا ہے ۔ یہ مختلف شکلوں میں دستیاب
ہیں، جن میں فیرس سلفیٹ، فیرس فیومریٹ اور فیرس گلوکونیٹ شامل ہیں۔ نئی تحقیق کے
مطابق، آئرن سپلیمنٹس کو ہر دوسرے دن خالی پیٹ لینا (دن میں ایک بار کی بجائے)
زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس طرح جسم میں ہیپسیڈین (ایک ہارمون جو آئرن
کے جذب کو کنٹرول کرتا ہے) کی سطح بہت زیادہ نہیں بڑھتی اور آئرن بہتر طریقے سے
جذب ہو پاتا ہے ۔
احتیاط
یہ ادویات معدے کی خرابی، قبض،
متلی اور پاخانہ کا رنگ سیاہ کر سکتی ہیں۔ ان اثرات کو کم کرنے کے لیے کھانے کے
ساتھ سپلیمنٹ لیا جا سکتا ہے، لیکن یاد رہے کہ اس سے جذب کی شرح کم ہو جاتی ہے۔
علاج کا دورانیہ عام طور پر خون کی سطح نارمل ہونے کے بعد بھی کم از کم چھ ماہ تک
جاری رکھا جاتا ہے تاکہ جسم کے ذخیرے دوبارہ بھر سکیں ۔
۲۔ انجیکشن (انٹراوینس آئرن)
انجیکشن کے ذریعے آئرن دینا ان مریضوں کے لیے مخصوص ہے جو
زبانی سپلیمنٹس کو برداشت نہیں کر سکتے، ان میں جذب کرنے کی شدید بیماری ہے، یا
پھر خون کی کمی بہت شدید ہے جسے جلدی پورا کرنا ہے ۔ خاص طور پر دل کے مریضوں
میں ورزش کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے انٹراوینس آئرن کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جدید
انجیکشنز میں انتہائی حساسیت (الرجی) کے واقعات 1 فیصد سے بھی کم ہیں ۔
دیگر طبی اور طرز زندگی کے اقدامات
آئرن
کی کمی کا مؤثر علاج صرف آئرن دینے سے مکمل نہیں ہوتا، بلکہ بنیادی وجہ کا پتہ
لگانا اور اس کا علاج کرنا بھی ضروری ہے۔
۱۔ بنیادی وجہ کا علاج
ڈاکٹرز مردوں اور رجونورتی کے بعد کی خواتین میں معدے
(اینڈوسکوپی) اور بڑی آنت (کالونوسکوپی) کا معائنہ تجویز کرتے ہیں تاکہ خون بہنے کی
وجہ معلوم کی جا سکے ۔ اگر وجہ ہیوی مینسٹرول بلیڈنگ (ضرورت سے زیادہ حیض) ہے
تو ہارمونل علاج یا ادویات سے اسے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ سیلیک بیماری یا ہیلی
کوبیکٹر پائلوری جیسے انفیکشن کا علاج بھی آئرن کی سطح کو بہتر بنانے کے لیے ضروری
ہے ۔
۲۔ انفیکشن سے بچاؤ
ملیریا، ہک ورم اور دیگر پرجیوی انفیکشن خون کی کمی کی بڑی
وجوہات ہیں ۔ ان سے بچاؤ کے لیے صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا، مکھیوں سے بچنا
اور متاثرہ علاقوں میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔
۳۔ حمل میں احتیاط
حمل کے دوران جنین کی نشوونما کے لیے آئرن کی ضرورت بہت بڑھ
جاتی ہے۔ اس لیے ڈبلیو ایچ او تمام حاملہ خواتین کو آئرن اور فولک ایسڈ کے
سپلیمنٹس لینے کی سفارش کرتا ہے ۔ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد نال کی رسی کو
دیر سے کلیمپ کرنا (کم از کم ایک منٹ) بچے میں آئرن کی سطح بہتر بنانے کا ایک
قدرتی طریقہ ہے ۔
ہومیوپیتھک ادویات کا کردار
ہومیوپیتھی
علاج کا ایک ایسا نظام ہے جو مریض کی مجموعی کیفیت کو مدنظر رکھتا ہے۔ آئرن کی کمی
کے علاج میں کئی ہومیوپیتھک ادویات کو مستند مانا جاتا ہے، اور جدید تحقیق نے ان
میں سے بعض کی افادیت کو ثابت کیا ہے۔
Ferrum Phosphoricum (فیرم فاسفوریکم)
یہ آئرن کی کمی کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اور
تحقیق شدہ ہومیوپیتھک دوا ہے۔
ایک طبی تحقیق میں نوعمر لڑکیوں میں آئرن کی کمی
(خون کی کمی) پر
Ferrum Phos 6x کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اس سنگل
بلائنڈ کراس اوور کلینکل ٹرائل میں، جن لڑکیوں کو Ferrum Phos 6x دیا گیا، ان کے ہیموگلوبن کی سطح میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا،
جبکہ پلیسبو گروپ میں کوئی خاص فرق نہیں آیا ۔
ایک اور سائنسی مطالعہ (لیبارٹری تحقیق) میں یہ
بات سامنے آئی کہ
Ferrum Phosphoricum D12 (ایک اور قوت کی
دوا) خلیات (میکروفیجز) میں آئرن کو محفوظ کرنے والے جینز (Ftl1 اور Ireb2) کے اظہار
کو نمایاں طور پر بڑھا دیتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دوا محض علامات ہی نہیں
بلکہ سالماتی سطح پر آئرن میٹابولزم کو متاثر کرتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس میں
اینٹی آکسیڈنٹ اور مدافعتی نظام کو متوازن کرنے والی خصوصیات بھی پائی گئیں۔
Ferrum Picricum (فیرم پکریم)
یہ دوا بھی خون کی کمی کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔ سنٹرل
کونسل فار ریسرچ ان ہومیوپیتھی (سی سی آر ایچ) کی زیر نگرانی ایک کثیر المرکزی طبی
تحقیقی مطالعہ میں 3,465 مریضوں کو شامل کیا گیا۔ اس تحقیق نے نہ صرف خون کی کمی،
بلکہ سر درد، چکر، نکسیر اور کمزوری جیسی علامات میں اس دوا کے استعمال کی تصدیق
کی ۔
انفرادی علاج
(Individualized Homoeopathy)
ایک ڈبل بلائنڈ، تصادفی، پلیسبو کنٹرولڈ کلینکل ٹرائل میں 60
مریضوں کو شامل کیا گیا۔ اس تحقیق میں مریضوں کو ان کی انفرادی علامات کی بنیاد پر
دوا دی گئی۔ نتائج سے پتہ چلا کہ انفرادی ہومیوپیتھک ادویات (خاص طور پر Natrum Muriaticum اور Sulphur) نے پلیسبو کے مقابلے میں سیرم
فیریٹین کی سطح کو بہتر بنانے میں نمایاں طور پر بہتر کارکردگی دکھائی۔ اگرچہ
ہیموگلوبن کی سطح میں فرق غیر معمولی تھا، لیکن یہ تحقیق ہومیوپیتھی کے ممکنہ
کردار کو اجاگر کرتی ہے ۔
واضح رہے
ہومیوپیتھک ادویات کا انتخاب مریض کی مکمل علامتی تصویر اور
ذاتی نوعیت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ لہٰذا، کسی بھی دوا کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر
استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
آئرن کی کمی کو پورا کرنا ایک کثیر الجہتی حکمت
عملی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کا آغاز خوراک میں آئرن اور وٹامن سی سے بھرپور غذاؤں
کو شامل کرنے سے ہوتا ہے۔ اگر خوراک ناکافی ہو تو جدید طب میں زبانی آئرن سپلیمنٹس
کو ترجیح دی جاتی ہے، اور ضرورت پڑنے پر انجیکشن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی،
خون کے اخراج کی بنیادی وجہ (جیسے حیض یا معدے کی بیماری) کا علاج بھی انتہائی
ضروری ہے۔ متبادل طریقہ علاج کے طور پر ہومیوپیتھی میں Ferrum Phosphoricum اور
Ferrum Picricum جیسی ادویات دستیاب ہیں، جن کی افادیت
کو جدید تحقیقی مقالات میں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ ان میں Ferrum Phosphoricum کو سالماتی سطح پر آئرن کے ذخیرے کو بڑھانے والی دوا قرار دیا
گیا ہے۔ بہترین نتائج کے لیے ضروری ہے کہ مریض اپنے معالج سے مکمل مشاورت کرے،
تشخیص کروائے اور علاج کے تمام پہلوؤں پر عمل پیرا ہو۔ آئرن کی کمی کا بروقت اور
درست علاج نہ صرف زندگی کا معیار بہتر بناتا ہے بلکہ سنگین پیچیدگیوں سے بھی بچاتا
ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں