انسانی صحت پر روزوں کے پر حکمت اثرات

 

ماہِ رمضان المبارک کی روحانی برکات اپنی جگہ مسلم ہیں، لیکن دورِ جدید کی طبی تحقیقات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ مقدس مہینہ انسانی جسم کی مکمل مرمت اور صحت کی بحالی کے لیے قدرت کا ایک عظیم ترین منصوبہ ہے۔ روزہ محض بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ یہ انسانی مشینری کی صفائی اور اسے نئے سرے سے فعال کرنے کا ایک ایسا عمل ہے جس کی مثال دنیا کی کسی بھی دوا یا علاج میں نہیں ملتی۔ جب انسان طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے سے ہاتھ روک لیتا ہے، تو اس کے جسم میں کئی ایسے حیاتیاتی تغیرات رونما ہوتے ہیں جو ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی بیماریوں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ثابت ہوتے ہیں۔

 انسانی جسم میں توانائی کے حصول کا بنیادی ذریعہ وہ غذا ہے جو ہم روزانہ کھاتے ہیں۔ جب ہم مسلسلکھاتے رہتے ہیں تو ہمارا نظامِ انہضام یعنی ہاضمے کا عمل تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ معدہ، جگر اور آنتیں مسلسل کام کرنے کی وجہ سے اپنی وہ کارکردگی برقرار نہیں رکھ پاتیں جو ان کا خاصہ ہے۔ رمضان کے روزے ان اعضاء کو ایک طویل وقفہ فراہم کرتے ہیں، جس سے انہیں اپنی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کا موقع ملتا ہے۔ طبِ جدید کی روشنی میں دیکھا جائے تو روزے کی سب سے بڑی حکمت جگر کی صفائی ہے۔ جگر انسانی جسم کا وہ کارخانہ ہے جو زہریلے مادوں کو ختم کرتا ہے۔ روزے کے دوران جب نیا کھانا جسم میں نہیں پہنچتا تو جگر کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ خون میں موجود فاضل مادوں اور چربی کو پگھلائے اور جسم سے خارج کر دے۔ اس عمل سے جگر کی چربی کم ہوتی ہے اور خون کی گردش میں بہتری آتی ہے۔

ایک اور انتہائی اہم پہلو جو روزے کی بدولت سامنے آتا ہے، وہ خون میں شکر کی سطح کا متوازن ہونا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں اور وہ افراد جو اس مرض کے خطرے سے دوچار ہیں، ان کے لیے روزہ ایک قدرتی علاج ہے۔ جب انسان کئی گھنٹوں تک کچھ نہیں کھاتا تو لبلبے کو انسولین بنانے کے کام سے تھوڑا سکون ملتا ہے، جس سے جسم میں انسولین کے خلاف مزاحمت کم ہو جاتی ہے۔ اس طرح جسم کے خلیات خون میں موجود شکر کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف شوگر کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ انسان کو موٹاپے جیسی امراض سے بھی بچاتا ہے جو کئی دوسری بیماریوں کی جڑ ہے۔

موٹاپا آج کے دور کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور روزہ اسے کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ عام حالات میں جب ہم ضرورت سے زیادہ کھاتے ہیں تو وہ اضافی توانائی چربی کی صورت میں پیٹ، رانوں اور دیگر حصوں میں جمع ہوتی رہتی ہے۔ روزے کی حالت میں جب جسم کو فوری طور پر گلوکوز نہیں ملتا، تو وہ مجبورا ذخیرہ شدہ چربی کو جلانا شروع کر دیتا ہے۔ اس عمل کو چربی پگھلانے کا عمل کہا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وزن میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ وزن کی کمی عارضی نہیں ہوتی بلکہ اگر افطار اور سحر میں اعتدال برتا جائے تو یہ مستقل بنیادوں پر صحت مندی کی علامت بن جاتی ہے۔

روزے کا ایک اور حیران کن طبی فائدہ خلیات کی خودکار صفائی کا عمل ہے۔ سائنسدانوں نے اسے ایک ایسا عمل قرار دیا ہے جس میں جسم کے تندرست خلیات ان پرانے، بیمار اور ناکارہ خلیات کو کھا جاتے ہیں جو کینسر یا دیگر مہلک بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ جب جسم کو بیرونی غذا نہیں ملتی تو وہ اپنے اندر موجود خراب پروٹین اور غیر ضروری اجزاء کو توانائی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ عمل گویا جسم کی اندرونی جھاڑو ہے جو ہر قسم کے گند کو صاف کر دیتی ہے۔ اس طرح کینسر جیسے موذی مرض سے بچاؤ میں بہت مدد ملتی ہے اور انسان کی عمر میں برکت کے ساتھ ساتھ اس کی جسمانی توانائی بھی بحال رہتی ہے۔

دل کی صحت کے حوالے سے بھی رمضان کی حکمتیں بے شمار ہیں۔ روزے کے دوران خون میں کولیسٹرول کی سطح کم ہو جاتی ہے، خاص طور پر وہ برا کولیسٹرول جو شریانوں کو تنگ کرتا ہے اور دل کے دورے کا سبب بنتا ہے۔ جب ہم روزے رکھتے ہیں تو بلڈ پریشر میں اعتدال آتا ہے اور دل کی دھڑکن متوازن رہتی ہے۔ شریانوں کی لچک بحال ہوتی ہے جس سے خون کی روانی پورے جسم میں سہولت کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزے داروں میں دل کے امراض کے خطرات عام لوگوں کی نسبت نمایاں طور پر کم پائے گئے ہیں۔

ذہنی صحت اور اعصابی نظام پر روزے کے اثرات تو اس سے بھی زیادہ گہرے ہیں۔ روزہ رکھنے سے دماغ میں ایک خاص قسم کا پروٹین پیدا ہوتا ہے جو دماغی خلیات کی حفاظت کرتا ہے اور نئے خلیات بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس سے یادداشت بہتر ہوتی ہے، توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے اور ذہنی تناؤ یا ڈپریشن میں کمی آتی ہے۔ روحانی سکون کے ساتھ جب جسمانی توازن ملتا ہے تو انسان نفسیاتی طور پر خود کو بہت ہلکا پھلکا اور خوش خور محسوس کرتا ہے۔ غصے پر قابو پانا اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا بھی اعصابی نظام کو سکون بخشتا ہے، جس سے بلڈ پریشر نہیں بڑھتا اور انسان دماغی امراض سے محفوظ رہتا ہے۔

گردوں کی کارکردگی میں بہتری بھی روزے کی ایک بڑی حکمت ہے۔ اگرچہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ پانی نہ پینے سے گردوں پر بوجھ پڑتا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ روزے کے دوران جب خون میں موجود فاضل مادے کم ہوتے ہیں تو گردوں کو خون صاف کرنے میں کم محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگر سحر و افطار کے درمیان پانی کا صحیح استعمال کیا جائے تو گردے اپنی بہترین حالت میں واپس آ جاتے ہیں اور پتھری بننے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ افطار کے وقت مصنوعی میٹھے مشروبات کی جگہ سادہ پانی یا لیموں پانی کا استعمال کیا جائے تاکہ گردوں پر اچانک بوجھ نہ پڑے۔

روزہ انسانی مدافعتی نظام کو بھی بے پناہ طاقت بخشتا ہے۔ جب جسم کے تمام اعضاء کو آرام ملتا ہے اور زہریلے مادوں کا اخراج ہوتا ہے، تو جسم کے اندر بیماریوں سے لڑنے والے سفید خلیات زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس سے انسان موسمی بیماریوں، نزلہ، زکام اور مختلف قسم کے انفیکشن سے محفوظ رہتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تین دن کا مسلسل روزہ رکھنے سے پورا مدافعتی نظام نئے سرے سے تشکیل پا سکتا ہے۔ تو سوچیں کہ پورے ایک مہینے کے روزے انسان کو کتنی مضبوط جسمانی دفاعی دیوار فراہم کرتے ہوں گے۔

معدے کی تیزابیت اور جلن کا خاتمہ بھی روزے کے ثمرات میں شامل ہے۔ اکثر لوگ بدہضمی اور گیس کے مسائل کا شکار رہتے ہیں کیونکہ ان کا معدہ کبھی خالی نہیں رہتا۔ روزے کی برکت سے معدے کی دیواروں کو آرام ملتا ہے اور ان میں موجود زخم یا سوزش ٹھیک ہونے لگتی ہے۔ لیکن یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ان تمام طبی حکمتوں کا حصول تب ہی ممکن ہے جب ہم سنتِ نبوی کے مطابق سحری اور افطاری کریں۔ اگر افطار کے وقت ہم تلی ہوئی اشیاء، بہت زیادہ مرچ مصالحے اور چینی کا بے دریغ استعمال کریں گے تو روزے کے ان طبی فوائد سے محروم رہ جائیں گے۔

رمضان ہمیں نظم و ضبط سکھاتا ہے اور یہی نظم و ضبط ہماری صحت کی بنیاد ہے۔ وقت پر کھانا اور وقت پر سونا انسانی حیاتیاتی گھڑی کو درست کرتا ہے۔ جب ہم سحری کے لیے جلدی اٹھتے ہیں اور عشاء کے بعد آرام کرتے ہیں تو ہمارے جسم کے ہارمونز متوازن ہو جاتے ہیں۔ نیند کی بہتری سے جسمانی تھکاوٹ دور ہوتی ہے اور انسان اگلے دن کے کاموں کے لیے تازہ دم ہوتا ہے۔ یہ مہینہ دراصل ایک تربیتی کورس ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کم کھا کر بھی زیادہ فعال رہ سکتے ہیں اور اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

مختصر یہ کہ رمضان المبارک کے روزے اللہ تعالی کا وہ انعام ہیں جو ہماری روح کو پاکیزہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے جسم کو بھی بیماریوں سے پاک کر دیتے ہیں۔ یہ ایک مکمل علاج ہے جس میں کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہے بشرطیکہ ہم اعتدال کی راہ اپنائیں۔ جو لوگ پورے ایمان اور احتیاط کے ساتھ روزے رکھتے ہیں، ان کا جسم رمضان کے اختتام پر ایک نئی مشین کی طرح ہو جاتا ہے جو پورے سال کی مشقت برداشت کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ صحت کے حوالے سے یہ حکمتیں ہمیں اس بات پر اکساتی ہیں کہ ہم نہ صرف رمضان میں بلکہ عام دنوں میں بھی کم کھانے اور بھوک رکھ کر کھانے کی عادت ڈالیں تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکے۔ اللہ تعالی نے روزے کی صورت میں جو نظام ہمیں عطا کیا ہے، وہ جدید سائنس کی تمام دواؤں سے بہتر، سستا اور موثر ترین ذریعہِ شفا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس مہینے کی قدر کریں اور اپنی جسمانی و روحانی صحت کی بحالی کے لیے اس کے ہر لمحے سے فائدہ اٹھائیں۔ جب انسان کا معدہ صاف ہوگا، دل مضبوط ہوگا اور دماغ پرسکون ہوگا، تو وہ اپنی زندگی کے تمام فرائض زیادہ بہتر طریقے سے سرانجام دے سکے گا۔ یہی رمضان کا اصل پیغام اور اس کی عظیم ترین طبی حکمت ہے۔

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

خوش آمدید

ہومیوپیتھی اور معدے کے مسائل