اشاعتیں

مئی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نمو کی خاموش چاپ

کائنات کی عظیم ترین حقیقتیں ہمیشہ سکوت کے بطن سے جنم لیتی ہیں۔ کبھی آپ نے صبحِ کاذب سے صبحِ صادق تک کے اس وقفے پر غور کیا ہے جب شب کی سیاہی آہستہ آہستہ سُرمئی رنگت میں بدلتی ہے اور پھر ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب سورج کی پہلی کرن افق پر رقص کرنے لگتی ہے؟ یہ اجالا ایک دم سے نہیں چھاتا۔ اگر ایسا ہوتا تو شاید انسانی آنکھ اس کی تاب نہ لا پاتی اور بینائی کے تار و پود بکھر جاتے۔ قدرت ہمیں سکھاتی ہے کہ روشنی کا سفر ہو یا انسانی شعور کا ارتقاء، ہر بڑی منزل تک پہنچنے کے لیے تدریج کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ تبدیلی کی حقیقت بھی یہی ہے۔ تبدیلی کبھی ایک دم اور اچانک نہیں آتی، یہ تو بتدریج آتی ہے۔ اچانک تو صرف حادثات اور صدمات ہی آتے ہیں جو وجود کو ایک جھٹکے میں لرزا دیتے ہیں اور زندگی کا شیرازہ بکھیر دیتے ہیں۔ لیکن اس بکھرے ہوئے شیرازے کو دوبارہ ترتیب دے کر ایک خوبصورت نقشہ بنانا وقت، صبر اور مسلسل ریاضت کا تقاضا کرتا ہے۔ ہم انسان بھی کتنے عجیب ہیں! ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگیوں میں بہتری کا انقلاب راتوں رات آ جائے۔ ہم خواہش کرتے ہیں کہ آج ہم نے ایک بیج بویا ہے تو کل اس کا سایہ ہمارے سر پر ہو اور پر...