نمو کی خاموش چاپ


کائنات کی عظیم ترین حقیقتیں ہمیشہ سکوت کے بطن سے جنم لیتی ہیں۔ کبھی آپ نے صبحِ کاذب سے صبحِ صادق تک کے اس وقفے پر غور کیا ہے جب شب کی سیاہی آہستہ آہستہ سُرمئی رنگت میں بدلتی ہے اور پھر ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب سورج کی پہلی کرن افق پر رقص کرنے لگتی ہے؟ یہ اجالا ایک دم سے نہیں چھاتا۔ اگر ایسا ہوتا تو شاید انسانی آنکھ اس کی تاب نہ لا پاتی اور بینائی کے تار و پود بکھر جاتے۔ قدرت ہمیں سکھاتی ہے کہ روشنی کا سفر ہو یا انسانی شعور کا ارتقاء، ہر بڑی منزل تک پہنچنے کے لیے تدریج کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔

تبدیلی کی حقیقت بھی یہی ہے۔ تبدیلی کبھی ایک دم اور اچانک نہیں آتی، یہ تو بتدریج آتی ہے۔ اچانک تو صرف حادثات اور صدمات ہی آتے ہیں جو وجود کو ایک جھٹکے میں لرزا دیتے ہیں اور زندگی کا شیرازہ بکھیر دیتے ہیں۔ لیکن اس بکھرے ہوئے شیرازے کو دوبارہ ترتیب دے کر ایک خوبصورت نقشہ بنانا وقت، صبر اور مسلسل ریاضت کا تقاضا کرتا ہے۔

ہم انسان بھی کتنے عجیب ہیں! ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگیوں میں بہتری کا انقلاب راتوں رات آ جائے۔ ہم خواہش کرتے ہیں کہ آج ہم نے ایک بیج بویا ہے تو کل اس کا سایہ ہمارے سر پر ہو اور پرسوں ہم اس کا پھل چکھ رہے ہوں۔ لیکن فطرت کا قانون اس قدر بے صبرہ نہیں ہے۔ ایک بیج کو تناور درخت بننے کے لیے مٹی کے اندھیرے میں خود کو فنا کرنا پڑتا ہے، اسے اپنی ہستی کو مٹانا پڑتا ہے تاکہ وہ ایک نئی ہستی کے طور پر ابھر سکے۔ وہ مہینوں زمین کے سینے سے نمکیات اور پانی کشید کرتا ہے، ہواؤں کے تھپیڑے سہتا ہے اور پھر ایک دن وہ زمین کا سینہ چاک کر کے ایک ننھی سی سبز کونپل کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔ یہ تبدیلی خاموش ہوتی ہے، دھیمی ہوتی ہے، مگر اتنی پائیدار کہ پھر کوئی طوفان اس کا راستہ نہیں روک سکتا۔

تاریخِ انسانی کے بڑے بڑے انقلابات ہوں یا کسی فرد کی شخصیت کا باطنی بدلاؤ، ان سب کے پیچھے برسوں کی خاموش تیاری ہوتی ہے۔ اس ضمن میں سب سے دلپذیر قصہ مولانا روم کا ہے۔ جلال الدین رومی، جو اپنے وقت کے بہت بڑے عالم، فقیہ اور مدرس تھے، جن کی مجلس میں سینکڑوں طالب علم زانوئے تلمذ طے کرتے تھے۔ وہ علم کے اس مقام پر تھے جہاں عقل کا غلبہ تھا اور دلیل کی حکمرانی تھی۔ پھر ان کی زندگی میں شمس تبریز آئے۔ وہ ملاقات بظاہر ایک صدمے کی طرح تھی جب شمس نے رومی کی قیمتی کتابیں پانی میں ڈال دی تھیں۔ رومی کے لیے وہ کتابیں ان کی کل کائنات تھیں، ان کا برسوں کا سرمایہ تھیں۔

لیکن شمس تبریز نے رومی کو یہ سکھایا کہ جو علم دل کی تختی پر نہ لکھا جائے، وہ محض بوجھ ہے۔ رومی کا ایک خشک عالم سے "محبت کے سفیر" بننے کا سفر اس دن شروع ہوا، مگر وہ مکمل اس دن نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد رومی نے برسوں جدائی کی تپش سہی، خاموشی کی چادر اوڑھی اور اپنے اندر کے انسان کو دریافت کیا۔ وہ رومی جو پہلے صرف لفظوں کے ہیر پھیر کو جانتے تھے، اب کائنات کے رقصِ بسمل کو سمجھنے لگے۔ یہ تبدیلی بتدریج آئی، پرت در پرت کھلی، یہاں تک کہ جلال الدین، رومی بن گئے اور ان کا کلام رہتی دنیا تک انسانی روحوں کی آبیاری کرنے لگا۔

انسانی جذبات اور احساسات کی دنیا بھی بڑی عجیب ہے۔ ہم جب کسی صدمے سے دوچار ہوتے ہیں، تو ہمیں لگتا ہے کہ اب کبھی مسکراہٹ ہمارے ہونٹوں کا مقدر نہیں بنے گی۔ اچانک آنے والا حادثہ دل کی نگری کو اجاڑ دیتا ہے۔ لیکن پھر وقت کا مرہم اپنا کام شروع کرتا ہے۔ وہ مرہم بھی یک لخت اثر نہیں دکھاتا۔ پہلے زخم بھرتے ہیں، پھر داغ مدھم ہوتے ہیں اور پھر ایک دن انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ دوبارہ سے جینے کے قابل ہو گیا ہے۔ یہ وہ اندرونی تبدیلی ہے جو نہایت دھیمے قدموں سے چل کر آتی ہے۔ اس تبدیلی کا حسن یہ ہے کہ یہ انسان کو پہلے سے زیادہ معتبر، گہرا اور حساس بنا دیتی ہے۔

آج کے تیز رفتار دور میں، جہاں ہر چیز ایک بٹن کے دبانے پر میسر ہے، ہم "فوری تبدیلی" (Instant Change) کے خبط میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا وزن ایک ہفتے میں کم ہو جائے، ہم ایک مہینے میں کروڑ پتی بن جائیں اور چند دنوں میں کوئی ہنر سیکھ کر ماہر کہلائیں۔ یہ طرزِ فکر ہمیں اضطراب اور ڈپریشن کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو چیز جتنی تیزی سے آتی ہے، وہ اتنی ہی تیزی سے رخصت بھی ہو جاتی ہے۔ حقیقی بدلاؤ وہ ہے جو رگ و پے میں اتر جائے، جو ہماری عادات کا حصہ بن جائے اور ہماری روح کا رنگ بدل دے۔

اگر ہم اپنے اردگرد موجود رشتوں کو دیکھیں، تو وہاں بھی یہی قانون کارفرما ہے۔ کسی سے محبت کا رشتہ ہو یا دوستی کا تعلق، یہ ایک دم سے پروان نہیں چڑھتا۔ یہ بھروسے کی ان چھوٹی چھوٹی اینٹوں سے بنتا ہے جو ہم روز مرہ کی زندگی میں ایک دوسرے کے لیے رکھتے ہیں۔ کسی کی تلخ بات پر مسکرا کر ٹال دینا، کسی کے دکھ میں صرف اس کا ہاتھ تھام کر بیٹھ جانا، یا کسی کی چھوٹی سی کامیابی پر سچے دل سے خوش ہونا—یہ وہ بتدریج عمل ہے جو رشتوں کو فولاد سے زیادہ مضبوط بنا دیتا ہے۔

تبدیلی کا ایک انوکھا زاویہ یہ بھی ہے کہ یہ ہمیں "حیرت" سے جوڑے رکھتی ہے۔ جب ہم آہستہ آہستہ بدلتے ہیں، تو ہم ہر نئے دن اپنے اندر ایک نئی تبدیلی کو محسوس کرتے ہیں۔ یہ احساس ایسا ہی ہے جیسے کسی پرانے گھر کی مرمت کی جا رہی ہو اور ہر روز ایک نیا گوشہ نکھر کر سامنے آئے۔ یہ عمل ہمیں تھکاتا نہیں بلکہ سرشار کرتا ہے۔ جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ ہمیں آج ہی کامل (Perfect) نہیں بننا، بلکہ صرف کل سے تھوڑا بہتر ہونا ہے، تو زندگی کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔

آئیے، ہم خود کو اس دھیمی آنچ کے سپرد کر دیں جو تبدیلی کی علامت ہے۔ ہم اپنی ذات کے مزاروں کی خاک پھانکنے کے بجائے، اپنے اندر جینے کی نئی امنگ پیدا کریں۔ یاد رکھیے، حادثہ صرف عمارت کو گراتا ہے، تعمیر تو ہمیشہ ایک ایک اینٹ رکھ کر ہی ہوتی ہے۔ زندگی کے اس عظیم سفر میں خود کو وقت دیں، اپنے احساسات کو پنپنے دیں اور فطرت کے اس خوبصورت نظام پر بھروسہ کریں جہاں ہر رات کے بعد صبح کا آنا لازم ہے، مگر اپنے مقررہ وقت پر۔

جب تک ہماری آنکھوں میں وہ حیرت باقی ہے جو ایک کھلتی ہوئی کلی کو دیکھ کر پیدا ہوتی ہے، تب تک ہم زندہ ہیں۔ اور جب تک ہم زندہ ہیں، تبدیلی کا یہ خوبصورت اور پُرتاثیر سفر جاری رہے گا۔ ہم اس دلفریب عہد کے گواہ ہیں جہاں ہم نے سادگی سے پرکاری تک کا سفر طے کیا، اب ہمیں اس تجربے کو نئی نسل تک اس یقین کے ساتھ منتقل کرنا ہے کہ زندگی کا اصل لطف منزل پر پہنچنے میں نہیں، بلکہ اس بتدریج بدلتے ہوئے راستے کی خوبصورتی کو محسوس کرنے میں ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

خوش آمدید

ہومیوپیتھی اور معدے کے مسائل