اعصابی نظام کی ابتری
عصری طرزِ حیات اور حسی مغلوبیت کا فلسفہ
انسانی تاریخ میں کبھی
بھی انسانی حسیات کو اس قدر ہمہ گیر حملے کا سامنا نہیں رہا جتنا کہ آج کی تیسری
دہائی کے انسان کو ہے۔ حسی مغلوبیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہمارے پانچوں حسیاتی
راستے یعنی بصارت، سماعت، شامہ، ذائقہ اور لمس اتنی زیادہ معلومات دماغ کی طرف
بھیجتے ہیں کہ دماغ کا پروسیسنگ نظام اسے ترتیب دینے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ قدیم
دور میں انسانی بقا کا دارومدار حسیات کی تیزی پر تھا، مگر وہ تیزی کسی خطرے کے
وقت عارضی طور پر بیدار ہوتی تھی۔ آج کا انسان ایک ایسی مصنوعی دنیا میں رہ رہا ہے
جہاں اشتہارات کی چمک، ٹریفک کا شور، اسکرین کی نیلی روشنی اور معلومات کا
لامتناہی بہاؤ ہر لمحہ ہمارے اعصاب کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ یہ کیفیت اعصابی
نظام کو ایک ایسی مستقل جنگی حالت میں مبتلا کر دیتی ہے جہاں سکون کا تصور محال ہو
جاتا ہے۔
اعصابی گنجائش کی نفسیاتی اور حیاتیاتی سرحدیں
ہر انسان کے اعصابی
نظام کی ایک خاص گنجائش (Window of Tolerance) ہوتی ہے۔ جب تک بیرونی محرکات اس گنجائش کے اندر رہتے ہیں، انسان
منطقی فیصلے کرنے اور جذباتی توازن برقرار رکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ جیسے ہی یہ حد
پار ہوتی ہے، اعصابی نظام دو میں سے ایک انتہا کی طرف چلا جاتا ہے۔ یا تو وہ
"ہائپر" ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اضطراب، چڑچڑاپن اور بے چینی پیدا ہوتی
ہے، یا پھر وہ "ہائپو" یعنی بالکل سن ہو جاتا ہے جسے طبی زبان میں
'ڈیسوسی ایشن' کہتے ہیں۔ اس صورت میں انسان اپنے ماحول سے کٹ جاتا ہے، اسے اپنے
گرد و پیش کی خبر نہیں رہتی اور وہ جذباتی طور پر مردہ محسوس کرنے لگتا ہے۔
حیاتیاتی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ دماغ کا وہ حصہ جو منطقی سوچ کا ذمہ دار ہے (Prefrontal Cortex)، وہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور قدیم حیوانی دماغ (Amygdala) کنٹرول سنبھال لیتا ہے جو صرف بقا کی زبان سمجھتا ہے۔
پوشیدہ علامات اور جسمانی ٹوٹ پھوٹ کا ادراک
اس مرض کی علامات اتنی
باریک ہیں کہ اکثر معالج بھی انہیں پہچاننے میں غلطی کر جاتے ہیں۔ حسی مغلوبیت کا
شکار فرد اکثر اوقات "دماغی دھند" (Brain Fog) کی شکایت کرتا ہے، جہاں اسے سادہ الفاظ یاد نہیں آتے یا وہ ایک
سادہ سا فیصلہ کرنے میں گھنٹوں لگا دیتا ہے۔ جسمانی طور پر یہ بوجھ گردن اور
کندھوں کے پٹھوں میں دائمی درد کی صورت میں نمودار ہوتا ہے، کیونکہ دماغ مسلسل جسم
کو کسی نامعلوم خطرے سے لڑنے کے لیے تیار رکھتا ہے۔ ایک اور اہم علامت
"انتخابی سماعت" کا ختم ہونا ہے، یعنی متاثرہ شخص کسی پرشور جگہ پر اپنے
سامنے بیٹھے شخص کی بات پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتا کیونکہ اس کا دماغ پس منظر کے
شور کو فلٹر کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہوتا ہے۔ نیند کے دوران بار بار آنکھ کھلنا یا
صبح اٹھنے کے باوجود تازگی محسوس نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ سوتے ہوئے بھی
اعصابی نظام بیرونی آوازوں یا روشنیوں سے مدافعت میں مصروف تھا۔
ڈیجیٹل کثافت اور بصری آلودگی کے اثرات
ہماری آنکھیں دماغ کا
بیرونی حصہ کہلاتی ہیں اور سب سے زیادہ توانائی بصری معلومات کو سمجھنے میں خرچ
ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل اسکرینوں سے نکلنے والی نیلی روشنی اور تیزی سے بدلتے ہوئے بصری
فریمز (Frames) دماغ کو ایک مصنوعی
تحریک دیتے ہیں جو ڈوپامائن کی سطح کو تو بڑھاتی ہے مگر اعصاب کو تھکا دیتی ہے۔
بصری آلودگی کا مطلب صرف اسکرین نہیں بلکہ ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی بے ہنگم
تعمیرات، بے ترتیب کمرے اور شوخ رنگ بھی ہیں۔ جب بصری ماحول پرسکون نہیں ہوتا تو
دماغ پس منظر میں مسلسل ان اشیاء کو "اسکین" کرتا رہتا ہے، جس سے ذہنی
توانائی کا ایک بڑا حصہ ضایع ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دور میں لوگ گھروں
میں ہونے کے باوجود وہ سکون محسوس نہیں کرتے جو کھلے آسمان تلے یا کسی درخت کے
سائے میں محسوس ہوتا ہے۔
اعصابی بحالی کا پہلا مرحلہ: حسی روزہ اور سکوت
اس کیفیت کا واحد حل
ادویات نہیں بلکہ "اعصابی تنظیمِ نو" (Nervous System Regulation) ہے۔ اس کا سب سے موثر طریقہ "حسی روزہ" ہے۔ اس کا مطلب
یہ ہے کہ دن کے مخصوص اوقات میں تمام حسیاتی راستوں کو آرام دیا جائے۔ روزانہ کم
از کم بیس منٹ تک ایک اندھیرے اور پرسکون کمرے میں لیٹنا، جہاں کوئی آواز نہ ہو،
دماغ کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ اب محفوظ ہے اور پہرہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس
دوران آنکھوں پر ٹھنڈی پٹی رکھنا یا بھاری کمبل (Weighted Blanket) کا استعمال لمس کی حس کو پرسکون کرتا ہے، جو براہِ راست اعصابی
نظام کو سکون کے موڈ (Parasympathetic
State)
میں لے جاتا ہے۔ یہ عمل دماغ کے ان خلیوں کو مرمت کا موقع فراہم کرتا ہے جو مسلسل
کام کی وجہ سے مرجھا چکے ہوتے ہیں۔
پانی، زمین اور فطرت سے حیاتیاتی ربط کا علاج
قدرت نے انسانی جسم میں
تناؤ کو خارج کرنے کے فطری میکانزم رکھے ہیں جنہیں ہم نے فراموش کر دیا ہے۔
"گراؤنڈنگ" یا مٹی کے ساتھ براہِ راست تعلق اعصابی نظام کے برقی بوجھ کو
زمین میں منتقل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ سائنسی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ جب انسانی
جلد زمین کی سطح کو چھوتی ہے تو جسم میں سوزش (Inflammation) کم ہوتی ہے اور خون کی گردش متوازن ہوتی ہے۔ اسی طرح پانی کا
اعصابی علاج (Hydrotherapy) نہایت اہمیت کا حامل
ہے۔ ریڑھ کی ہڈی پر ٹھنڈے پانی کی دھار ڈالنا یا چہرے پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے
مارنا "ویگس نرو" (Vagus Nerve) کو متحرک کرتا ہے، جو کہ جسم کا سب سے بڑا اعصابی سکون کا راستہ
ہے۔ یہ سادہ اقدامات کسی بھی مہنگی تھراپی سے زیادہ جلدی اعصابی گنجائش کو بحال
کرتے ہیں۔
غذائی کیمیا اور اعصابی تحفظ
اعصابی نظام کو کام
کرنے کے لیے مخصوص چکنائیوں اور نمکیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ جدید غذا، جو چینی اور
مصنوعی روغن سے بھرپور ہے، اعصابی خلیوں کے گرد موجود حفاظتی تہہ "مائلین
شیتھ" (Myelin Sheath) کو کمزور کر دیتی ہے۔
علاج کے طور پر ایسی غذاؤں کا انتخاب ضروری ہے جو اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوں،
جیسے کہ اخروٹ، السی کے بیج اور گہرے سبز پتوں والی سبزیاں۔ میگنیشیم کا استعمال
پٹھوں اور اعصاب کے درمیان پیغام رسانی کو ہموار بناتا ہے اور بے چینی کو کم کرتا
ہے۔ اس کے علاوہ کیفین اور الکحل جیسے محرکات سے پرہیز ضروری ہے کیونکہ یہ اعصاب
کو جھوٹا تحرک دے کر ان کی بچی کچی توانائی بھی نچوڑ لیتے ہیں۔ ہربل چائے، خاص طور
پر بابونہ (Chamomile) یا لیمن بام، اعصابی
نظام کو قدرتی طور پر پرسکون کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
نفسیاتی حد بندی اور زندگی کی نئی ترتیب
آخری اور سب سے اہم پہلو ذہنی رویوں کی تبدیلی ہے۔ حسی بوجھ کا ایک بڑا حصہ ہماری ان کوششوں سے آتا ہے جہاں ہم ہر خبر سے باخبر رہنا چاہتے ہیں اور ہر سماجی تقاضے کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی زندگی میں "معلوماتی خوراک" (Information Diet) کی حد مقرر کرنا ضروری ہے۔ غیر ضروری سوشل میڈیا گروپس، خبروں کے مسلسل سلسلے اور فضول بحثوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا اعصاب کو وہ وسعت فراہم کرتا ہے جو تخلیقی کاموں کے لیے ضروری ہے۔ اپنی حدود (Boundaries) کا تعین کرنا سیکھیں اور خود کو یہ حق دیں کہ آپ ہر وقت ہر کسی کے لیے دستیاب نہیں ہو سکتے۔ جب آپ اپنے اعصابی نظام کو ایک مقدس امانت سمجھ کر اس کی حفاظت کریں گے، تو آپ کی صحت، سوچ اور زندگی کے معیار میں وہ انقلاب آئے گا جو کسی معجزے سے کم نہیں ہو گا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں